
ضلع باجوڑ میں ملنگی چیک پوسٹ پر ہونے والے خـودکـش حـمـلے کے بعد مقامی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ تحصیل ماموند کے عوام نے حـمـلہ آوروں کے سہولت کاروں کو پناہ دینے پر تین دیہات — انگا، شاکرو اور شاہی تنگی — کے خلاف سماجی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق حـمـلے میں ملوث شـدت پـسند عناصر کے سہولت کاروں کی موجودگی کے شبے میں یہ اقدام اٹھایا گیا۔ عوامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں بدامنی پھیلانے والوں یا ان کے معاونین کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔دوسری جانب حکومت خیبر پختونخوا نے حـمـلے میں ملوث سہولت کاروں اور معاونین کے سروں کی قیمت پانچ کروڑ روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق مطلوب افراد — طاہر عرف مولا، اسماعیل عرف عمر اور الیاس عرف ملنگ باچا — کی گرفتاری یا مصدقہ اطلاع دینے والے کو پانچ کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ ریاستی ادارے دہـشـت گـردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھیں گے اور سہولت کاروں کے خلاف بھی سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔ مقامی مشران نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ معصوم شہریوں کے قـاتـلوں اور ان کے مددگاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور امن و امان کی بحالی کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا