پشاور: خیبرپختونخوا میں رواں سال دہشتگردوں کی جانب سے پولیس کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پولیس دستاویزات کے مطابق سال 2025 کے دوران صوبے میں مجموعی طور پر 65 ڈرون حملے کیے گئے جن میں مختلف اضلاع متاثر ہوئے۔دستاویزات کے مطابق دہشتگردوں نے سب سے زیادہ ڈرون حملے شمالی وزیرستان میں کیے جہاں 31 واقعات رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ بنوں ایک اور بڑا متاثرہ ضلع رہا جہاں رواں سال پولیس پر 23 ڈرون حملے کیے گئے۔
باجوڑ میں 5 جبکہ جنوبی وزیرستان اپر میں 3 ڈرون حملے ریکارڈ کیے گئے۔ ٹانک میں 2 اور سابق ایف آر ٹانک میں ایک ڈرون حملے کی نشاندہی کی گئی ہے۔پولیس دستاویزات کے مطابق بنوں میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں 9 شہری شہید ہوئے جبکہ 33 شہری اور 19 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر بنوں میں انسدادِ ڈرون اقدامات کو مؤثر بنایا گیا، جہاں جولائی سے اب تک اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے 300 سے زائد ڈرون حملوں کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا۔
اسی دوران چار دہشتگرد ڈرونز کو مار گرا کر پولیس نے تحویل میں بھی لے لیا۔پولیس حکام کے مطابق ڈرون حملوں کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نقصان پہنچانا ہے، تاہم سیکیورٹی فورسز جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کی مدد سے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔