
تیراہ میں جاری صورتحال کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں کے برعکس دستیاب حقائق یہ بتاتے ہیں کہ یہ معاملہ کسی اچانک فیصلے یا طاقت کے استعمال کا نہیں بلکہ کئی ماہ پر محیط مشاورت، جرگوں اور ناکام امن کوششوں کے بعد سامنے آیا۔
ستمبر 2025 میں تیراہ کے مقامی مشران نے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور سے ملاقات کی جس میں موجودہ وزیر اعلیٰ، جو اس وقت ایم پی اے تھے، بھی شریک تھے۔ ملاقات میں تیراہ میں دہشت گردی اور فتنہ الخوارج کی موجودگی پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
ذرائع کے مطابق اسی نشست میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ قبائلی روایات کے مطابق جرگہ فتنہ الخوارج سے رابطہ کرے گا اور انہیں علاقہ چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ بعد ازاں جرگہ قرآن مجید لے کر دہشت گردوں کے پاس گیا، تاہم قبائلی اقدار کے برعکس جرگے کی بات ماننے سے انکار کر دیا گیا اور علاقے سے نکلنے سے صاف انکار کر دیا گیا۔
تین ماہ تک مقامی مشران نے مختلف سطح پر کوششیں جاری رکھیں، لیکن 11 دسمبر 2025 کو انہوں نے انتظامیہ کو آگاہ کر دیا کہ تمام تر امن کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور اب وہ رضاکارانہ طور پر عارضی نقل مکانی کے لیے تیار ہیں تاکہ آپریشن کے دوران عام آبادی کو نقصان نہ پہنچے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں تیراہ میں آپریشن اور نقل مکانی کا فیصلہ سامنے آیا۔